کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں، کہ میں نے تبلیغی جماعت میں چارہ ماہ ، اللہ کی راہ میں صرف کیے ہیں، میرے والد نے اس کی اس وقت اجازت نہیں دی تھی ، اس سے پہلے میں چالیس دن ان کی اجازت سے گیا تھا ، لیکن اس دوران وہ بیمار ہوگئے ، میرے چار ماہ لگانے کے دوران میرے دادا/ نانا کا انتقال ہوا ، میں اس میں شامل نہیں ہوسکا ، میں پھر چارماہ لگانے کے لئے نکل گیا ، میرے والد نے اجازت نہیں دی لیکن میں بغیر اجازت چلا گیا ، میرے والد بیمار ہوگئے اس پر میرے دوستوں کا کہنا ہے کہ میں مزید ان کی مرضی کے نہیں جاؤں گا۔
کیا ان حالات میں اللہ کی راہ میں نکلنا جائز ہے؟
جب سائل کے والد بوڑھے ، بیمار اور خدمت کے محتاج ہیں اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا بیٹا وغیرہ بھی ان کی خدمت کیلئے موجود نہیں تو اس صورت میں اس پر ان کی خدمت کرنا لازم ہے اور ان کی اجازت و رضا مندی کے بغیر کسی دوسرے مقام کا سفر کرنے سے احتراز کرے ، بلکہ ان کی بیماری اور ضعف کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مقام پر کام کرنے کی کوشش کرے اور ان کی خدمت گزاری کو اپنی سعادت اور خوش قسمتی سمجھتے ہوئے بجالانے کی کوشش کرے اور اسے ترجیح بھی دے۔
فی تفسیر روح المعانی : و قولنا أن يخالف أمره و نهيه فيما يدخل منه الخوف الخ أردنا به السفر للجهاد و نحوه من الأسفار الخطرة لما يخاف من فوات نفس الولد أو عضو من أعضائه لشدة تفجع الوالدين على ذلك و قد ثبت عن النبي من حديث عبد الله بن عمرو في الرجل الذي جاء يستأذن النبي للجهاد أنه عليه الصلاة و السلام قال له : أحي والداك قال : نعم قال : ففيهما فجاهد و في رواية ارجع إليهما ففيهما المجاهدة و في أخرى جئت أبايعك على الهجرة و تركت أبوي يبكيان فقال : ارجع فأضحكهما كما أبكيتهما الخ(ج۸، ص۶۰۔ سورۂ بنی اسرائیل)۔
و فیہ ایضا : و قد روى ابن حبان و الحاكم و قال : صحيح على شرط مسلم عن النبي قال : رضا الله تعالى في رضا الوالدين و سخط الله تعالى في سخط الوالدين و صح أن رجلا جاء يستأذن النبي في الجهاد معه فقال : أحي والداك قال : نعم قال : ففيهما فجاهد الخ (ج۸، ص۵۷)۔